کیا آپ کو چائے کے فائدے پتا ہے؟

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

(ویب ڈسک)ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے میں موجود فلیونوئڈز نامی قدرتی مرکبات صحت کے لیے طویل المعیاد بنیادوں پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
یہ مرکبات سیاہ اور سبز چائے، سیب، گریوں، مالٹے یا ترش پھل، بیریز اور دیگر غذاؤں میں موجود ہوتے ہیں۔
یہ تو پہلے سے معلوم تھا کہ یہ مرکبات صحت کے لیے مفید ہیں مگر اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ ہماری توقعات سے بھی زیادہ فائدہ مند ہیں۔
اس تحقیق میں 881 معمر خواتین (اوسط عمر 80 سال تھی) کو شامل کیا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ فلیونوئڈز پر مبنی غذا اور مشروبات کے استعمال سے خون کی سب سے بڑی شریان اے اے سی میں نقصان دہ مواد جمع ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
یہ شریان آکسیجن ملے خون کو دل سے معدے اور زیریں جسم پہنچانے کا کام کرتی ہے اور اس میں مواد جمع ہونے سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیاہ یا سبز چائے، بلیو بیریز، اسٹرابیریز، مالٹوں، سیب، کشمش یا انگور اور ڈارک چاکلیٹ میں یہ مرکبات موجود ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ان مرکبات کے زیادہ استعمال سے خون کی شریان کی بندش یا مواد جمع ہونے کا خطرہ 36 سے 39 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ سیاہ چائے فلیونوئڈز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور روزانہ 2 سے 6 کپ پینے سے شریان میں مواد جمع ہونے کا خطرہ 16 سے 42 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
محققین نے کہا کہ اگر آپ کو چائے پینا پسند نہیں تو فلیونوئڈز سے بھرپور غذا کے استعمال سے بھی یہ خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مرکبات پر مبنی غذا کو خوراک کا حصہ بنانا چاہیے، خاص طور پر نوجوان افراد کو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شریان میں مسائل سے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے اور ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ فلیونوئڈز کا استعمال لوگوں کو ان امراض سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آرٹیروسکلروسیس، تھرومبوسس، اور ویسکولر بیالوجی میں شائع ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں