غریب بچے بڑے ہو کر دولت مند کیسے بن سکتے ہیں؟

غریب بچے بڑے ہو کر دولت مند کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب کا ہر غریب شخص متلاشی ہے، لیکن اب ایک بڑے پیمانے پر کی گئی امریکی تحقیق نے اس سلسلے میں ایک اہم انکشاف کیا ہے۔

امریکی سائنسی جریدے ‘نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ‘دوستی کی طاقت’ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امیر دوستوں والے بچوں کے بڑے ہو کر دولت مند بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ ایسا پہلے بھی سمجھا جاتا رہا ہے تاہم پہلی مرتبہ اتنے وسیع پیمانے پر ریسرچ کی گئی ہے۔

محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر غریب گھروں کے بچے ایسے پڑوس میں پلے بڑھیں، جہاں امیر بچے ان کے دوست ہوں، تو بڑے ہو کر ان کے اپنے طور پر دولت کمانے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ غریب بچے جو ایسے پڑوس میں پلے بڑھے جہاں ان کے 70 فی صد دوست امیر تھے، تو مستقبل میں ان کی آمدنی ان کے ساتھیوں کے مقابلے میں 20 فی صد زیادہ تھی، بہ نسبت ان کے جو طبقاتی فرق والے رابطوں کے بغیر پلے بڑھے۔

امریکی محققین کی ایک ٹیم نے اس موضوع پر اپنی ریسرچ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے فیس بک کا انتخاب کیا، کیوں کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے، اور دنیا کے تقریباً 3 ارب انسان فیس بک استعمال کرتے ہیں۔

محققین نے صارفین میں سے تقریباً 7.2 کروڑ افراد کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا، تاہم 25 سے 44 برس تک کی عمر کے ان افراد کی ذاتی تفصیلات کو راز میں رکھا گیا۔

محققین نے ایک ایلگورتھم کا استعمال کیا، جس میں افراد کو ان کی سماجی اور اقتصادی حیثیت، عمر، علاقے اور کئی دیگر زمروں میں تقسیم کیا گیا، ماہرین نے اپنی ریسرچ میں ایک زمرہ یہ بھی بنایا تھا کہ امیر اور غریب ایک دوسرے سے کس طرح با ت چیت کرتے ہیں۔

ریسرچ میں دیکھا گیا کہ افراد کے ان کی معاشی حیثیت سے بلند کتنے دوست تھے؟ محققین نے حاصل شدہ اعداد و شمار کا پچھلے تجزیوں اور تحقیقی مطالعات سے موازنہ بھی کیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ راج شیٹی نے کہا دو الگ الگ بنیادوں پر اخذ کیے گئے نتائج ‘حیرت انگیز طور پر یکساں’ تھے، پہلے مطالعے سے یہ نتیجہ نکلا کہ ‘معاشی بنیاد پر ربط’ اس بات کی پیش گوئی کرنے کے لیے سب سے مضبوط بنیاد ہے کہ کوئی شخص کتنی اقتصادی ترقی کر سکتا ہے۔ دوسرے مطالعے سے یہ پتا لگانے کی کوشش کی گئی تھی کہ امیر یا غریب طبقات کے بچے کسی خاص شعبے میں کیوں دوست بنا لیتے ہیں۔

محققین کو امید ہے کہ ان کی اس ریسرچ سے پالیسی سازوں کو مثبت اور تعمیری اقدامات میں مدد ملے گی، راج شیٹی کا خیال ہے کہ دیگر ممالک میں بھی ایسی ریسرچز کے نتائج اسی طرح کے ہوں گے، اس لیے انھوں نے دیگر ملکوں کے محققین سے فیس بک ڈیٹا استعمال کر کے اپنے ہاں ریسرچ کرنے کی اپیل بھی کی۔

ماہرین نے یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ غریب اور امیر بچوں کی زیادہ سے زیادہ دوستیوں سے غربت میں کمی بھی لائی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں