سیالکوٹ جلسہ گاہ پر پولیس کا دھاوا: عثمان ڈار و متعدد کارکنان گرفتار

سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کا جلسہ کی تیاریوں میں مصروف رہنما عثمان ڈار اور کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، اسٹیج بھی توڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے کے انتظامات جاری تھے کہ پولیس نے دھاوا بول دیا، صبح چھ بجے پولیس کی بھاری نفری جلسہ گاہ میں داخل ہوگئی۔

پولیس کے ہمراہ ٹی ایم اے کا عملہ اور مشینری بھی تھی، اس موقع پر اسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ بھی موجود تھے، پولیس کی بھاری نفری عمران خان کیلئے تیار کئے گئے اسٹیج پرچڑھ گئی۔

پولیس کی جانب سےاسٹیج سے کرسیاں اور دیگرسامان اٹھا کر پھینک دیا گیا، اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے ڈی پی اوسیالکوٹ کو جلسہ پرامن کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق ڈی پی او سیالکوٹ حسن اقبال نے فون پر کسی سے ڈائریکشن لی اور جلسہ گاہ پر دھاوا بول دیا گیا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔،

جلسہ گاہ سے سامان ہٹائے جانے پر پی ٹی آئی کارکنان مشتعل ہوگئے سامان کو بچانے کیلیے کارکنان کرین کے آگے لیٹ گئے۔

کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے، پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے، پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور متعدد کارکنان کو پولیس نے حراست میں لے لیا جنہیں بعد میں موبائل میں ڈال کر لے جایا گیا۔

عثمان ڈار کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں ڈالنے سے کپتان کی محبت کم نہیں ہوگی، ہم جیل سے باہر نکلیں گے، پھر جلسہ کریں گے، عمران خان سیالکوٹ میں جلسہ کرنے آئیں گے، عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم جیلیں بھردیں گے۔

قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان ڈار نے کہا کہ تمام حالات کے ذمہ دار ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی ہے، ڈپٹی کمشنر8دن سے کہہ رہے تھے آپ جلسہ کریں، کہا جاتا ہے اوپر سے فون آرہے ہیں، یہ کون ہے اوپر؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ یہاں جلسہ نہیں کریں، جب کنٹینر لگ رہے تھے ڈپٹی کمشنر کہاں تھے؟
پنجاب پولیس سیالکوٹ میں ماڈل ٹاون ٹو کی طرف جارہی ہے۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ کوئی کرسیاں اٹھائے گا تو ہم کرسیاں چلادیں گے، درخواست دینے کے بعد ہمارے ساتھ مذاق کیا گیا ہے، خواجہ وینٹی لیٹر کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ کہتے ہیں جلسہ نہیں ہونے دیں گے جلسہ تو ہوگا، ہم جانے والے نہیں جلسہ ہوکر رہے گا، جینا ہوگا مرنا ہوگا جلسہ ہوگا جلسہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں