اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی سینیٹ سے منظوری کے موقع پر اہم اراکین ایوان سے غائب

اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے متعلق ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کرا لیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیم بل پیش کیا، بل کی حمایت میں 43 اور مخالفت میں 42 ووٹ پڑے جبکہ صادق سنجرانی نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

سینیٹ کے کل اراکین کی تعداد 99 ہے لیکن اہم ترین سیشن کے موقع پر ایوان میں 86 ممبران موجود تھے۔

سینیٹ نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کرلیا

سینیٹ میں حکومت کے اراکین کی تعداد 42 جبکہ دلاور خان گروپ سمیت کے 6 ممبران سمیت اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 57 ہے۔

آج کے سینش کے دوران دلاور خان گروپ کے 6 میں سے دو اراکین ہدایت اللہ اور ہلال الرحمان اجلاس سے غیر حاضر تھے جس میں سے سینیٹر ہدایت اللہ کورونا کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب بھی اجلاس سے غیر حاضر تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی، قاسم رانجھو اور سکندر میندھرو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، پی کے میپ کے شفیق ترین اور نسیمہ احسان بھی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

اسی طرح مسلم لیگ ن کی نزہت صادق کینیڈا میں ہونے اور مشاہد حسین کورونا کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

اپوزیشن سے جے یو آئی (ف)کے سینیٹر طلحہ محمود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر زرقہ طبیعت کی خرابی کے باعث ایوان میں آکسیجن سلینڈر کے ساتھ آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں