کرتارپور راہداری نے 74 سال بعد بھائی کو بھائی سے ملادیا

ظفر وال : کرتارپور راہداری نے چوہترسال بعد بھائی کو بھائی سے ملادیا ، صدیق اور حبیب قیام پاکستان کے وقت بچھڑگئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق کرتارپور راہداری اپنوں کو ملانے لگی، چوہتر سال بعد بھائی کی بھائی سے ملاقات ہوئی ، فیصل آباد میں مقیم شہری محمد صدیق کو پتا چلا کہ اس کا بھائی حبیب عرف شیلا جو بھارتی پنجاب کے شہر پھلے والا سے کرتار پورآرہا ہے تو ملنے پہنچ گیا۔

محمد صدیق نے دور سے ہی اپنے بھائی کو پہچان لیا، دونوں بھائی آپس میں مل کر خوب روئے اور بغل گیر ہوتے رہے، بچھڑے بھائیوں کی ملاقات کے جذباتی مناظر سے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔

ایک بھائی نے دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ زندہ ہیں تو مل بھی گئے ہیں۔

خیال رہے قیام پاکستان کے وقت دونوں بھائی محمد صدیق اور حبیب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔

یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور کوریڈور کا افتتاح کیا تھا، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سرحدی راہداری، جو پاکستان میں سکھوں کی عبادت گاہوں ڈیرہ بابا نانک صاحب اور گوردوارہ دربار صاحب کو جوڑتی ہے۔

ہندوستانی زائرین کو گرودوارہ تک بغیر ویزہ کے سفر کی اجازت ہے، جس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی آرام گاہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں