یوکرین تنازع:امریکا کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا ردعمل فوجی تکنیکی نوعیت کا ہو گا، روس

یوکرین تنازع پر امریکا اور روس کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا اختتام ہوگیا۔

امریکی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین اور روسی ہم منصب سرگئی ریابکوف کے درمیان ملاقات تقریباً 8گھنٹے تک جاری رہی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق جنیوا میں دونوں ممالک کے حکام کی ملاقات کے بعد روس نے امریکا کو کہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جبکہ دونوں فریقین نے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ امریکا نے روسی وفد کے ساتھ 8 گھنٹے تک واضح اور فیصلہ کن بات چیت کی جبکہ دو طرفہ امور پر مزید تفصیلی بات چیت کیلئے جلد ہی دوبارہ ملاقات کیلئے امریکا تیار ہے۔

روس نے یوکرائن کی سرحد سے اپنے ہزاروں فوجی واپس بلالیے

دوسری جانب روسی نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکا کے ساتھ ہونے والے سکیورٹی مذاکرات کو پیشہ ورانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایک پیش رفت اور سمجھوتے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو اور یورپی گروپ سے ملاقاتوں کے بعد امریکا سے بات چیت جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ کیاجائے گا۔

سرگئی ریابکوف نے مزیدکہا کہ روس اور امریکا کے درمیان معاہدے کی بنیاد موجود ہے لیکن واشنگٹن کو تصادم کے خطرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی یوکرین کو نیٹو رکنیت نہ ملنے کی خواہش سے متعلق امریکا روس مزاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

روسی نائب وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا ردعمل فوجی تکنیکی نوعیت کا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں