سانحہ مری: ’کاربن مونو آکسائیڈ گیس‘ کیا ہے؟اور اس سے کیسے بچیں .

سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری میں 7 جنوری کو رات گئے ہونے والی برفباری نے 23 افراد کو موت کی نیند سلادیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں سے برفباری دیکھنے کے لیے آئے سیاحوں کو برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا، طوفان تو اپنے وقت پر تھم ہی گیا لیکن پیچھے کئی سوالات اور مستقبل کے لیے ایک بڑی سیکھ چھوڑ گیا۔

گزشتہ کچھ دنوں سے ہم نے ایک لفظ شاید کچھ زیادہ ہی سنا ہے اور وہ ہے کاربن مونو آکسائیڈ گیس۔

مری سانحہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد سیاح گاڑیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کے اخراج کے باعث دم گھٹنے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

کاربن مونو آکسائیڈ کیا ہے؟

کاربن مونو آکسائیڈ بے رنگ اور بغیر بو والی گیس ہے، اگر ہم یوں کہیں کہ کاربن مونو آکسائیڈ خاموش قاتل ہے تو بلاشبہ غلط نہ ہوگا،کاربن مونو آکسائیڈ ایندھن سے چلنے والی ہر چیز سے پیدا ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بند جگہ پر یہ گیس انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہے، سانس کے ذریعے اندر لینے سے جسم میں آکسیجن کی گردش رُک جاتی ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کی جانب سے لوگوں کو مشورہ بھی دیا گیا کہ گاڑیوں کو بندجگہ جیسے گیراج میں ہرگز نہ چھوڑیں پھر چاہے بیرونی دروازہ کھلا ہی کیوں نہ ہو۔

شدید برفباری میں پھنس جائیں تو کیا کریں؟

اگر آپ کہیں شدید برفباری میں گاڑی میں پھنس جائیں تو کوشش کریں کہ گاڑی کا ہیٹر مسلسل نہ چلائیں یا اگر ہیٹر چلائیں تو پھر شیشے تھوڑے سے کھول کر رکھیں۔

ایسے علاقوں میں بچوں کے ساتھ سفر پر جاتے وقت کھانے پینے کا کافی سارا سامان ساتھ ضرور رکھیں، ہر 2 گھنٹے بعد پانی کے 2 گھونٹ لازمی پیئیں یا کچھ نہ کچھ ہر 2 گھنٹے بعد لازمی کھاتے رہیں۔

سب سے ضروری اپنے آپ کو حرکت میں رکھیں تاکہ خون گردش کرتا رہے اور تھوڑی تھوڑی دیر کچھ لوگ اگر سو رہے ہیں تو ایک بندہ لازمی جاگتا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں