طالبان پر تنقید کرنے پر افغان انٹیلیجنس نے معروف پروفیسر کو گرفتار کر لیا

کابل: افغانستان میں طالبان پر تنقید کے الزام میں انٹیلیجنس کے شعبے نے ایک یونیورسٹی پروفیسر کو گرفتار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر طالبان کی حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر کابل یونیورسٹی کے معروف پروفیسر فیض اللہ جلال کو گزشتہ روز حراست میں لے لیا گیا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر پروفیسر جلال کی گرفتاری کی تصدیق کی، ترجمان کا کہنا تھا کہ پروفیسر فیض اللہ جلال نامی ایک متعصب انسان کو انیٹلیجنس کے شعبے نے حراست میں لیا ہے، ان سے اس بات پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر کیوں نامناسب تبصروں کے ذریعے لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکایا اور لوگوں کی عزتیں اچھالیں۔

پروفیسر کی بیٹی حسنیٰ جلال نے ٹویٹ میں خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے والد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، افغانستان کے صدارتی انتخابات میں تاریخ میں پہلی بار حصہ لینے والی افغان خاتون مسعودہ جلال، پروفیسر فیض اللہ جلال کی اہلیہ ہیں، انہوں نے 2004 میں سابق صدر حامد کرزئی کے خلاف الیکشن لڑا تھا۔

افغانستان میں پروفیسر جلال کی گرفتاری کے خلاف احتجاج بھی شروع ہو گیا ہے، اس سلسلے میں خواتین نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جب کہ ٹوئٹر پر فری پروفیسر جلال کا ہیش ٹگ بھی مقبول ہو رہا ہے۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق ایک مقامی خبررساں ایجنسی آماج نیوز نے کہا کہ ذبیح اللہ مجاہد نے پروفیسر کے جس اکاؤنٹ کو حوالے کے طور پر استعمال کیا، وہ جعلی نکلا ہے، ہفتے کے روز فیض اللہ جلال نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے اس حوالے سے خبردار بھی کیا کہ یہ اکاؤنٹ ان کا نہیں ہے، بلکہ جعلی ہے۔ یہ جعلی اکاؤنٹ اب ٹوئٹر نے ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پروفیسر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں