حکومت مخالف مظاہرے: قازقستان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ بھی گرفتار

الماتے : قازقستان بدامنی کا گڑھ بنتا جارہا ہے، سیکیورٹی فورسز نے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کو بھی گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج پرتشدد مظاہروں اور شورش (مسلح جدوجہد) میں تبدیل ہوچکا ہے، جس کے سدباب کےلیے قازقستان کے صدر سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کو دیکھتے ہی بغیر انتباہ گولی مارنے کا حکم صادر کردیا ہے۔

صدر جومارت توکائیف نے مظاہروں پر قابو پانے میں ناکام ہونے پر خفیہ ادارے کے سربراہ کریم ماسیموف کو برطرف کردیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرلیا۔

قازقستان کے صدر نے اپنے خطاب میں فوج بھیجنے پر روسی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلح ٹھگوں‘ کو ختم کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل حکومت مخالف مظاہرین نے مظاہرین نے سابق صدر نور سلطان نذر بائیف کا مجسمہ بھی گرا دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں