فرانس میں کورونا کا ایک اور نیا ویرینٹ رپورٹ

فرانس میں اومی کرون کے بعد کوروناوائرس کا ایک اور نیا ویرینٹ سامنے آگیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے منگل کو ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اومی کرون کے بعد کورونا کی ایک اور قسم نے فرانس میں ایک درجن افراد کو متاثر کیا ہے۔

وائرس پہلی بار کب سامنے آیا اور اس کا نام کیا ہے؟

امریکی میڈیا کمپنی بلومبرگ کے مطابق نومبر میں کیمرون سے فرانس واپس آنے والے ایک مسافر میں کورونا کا نیا ویرینٹ سامنے آیا تھا جسے فرانس کے The Mediterranee Infection University Hospital Institute (IHU) کے محققین نے IHU اور B.1.640.2کا نام دیا ہے ۔

یہ وائرس خطرناک ہے؟

ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار نے جنیوا میں محققین کو بتایا کہ کورونا کے اس نئے ویرینٹ کو وبائی پہلو سے دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔

بلوم برگ کے مطابق ماہرین کاکہنا ہے کہ کورونا کے اس نئے ویرینٹ میں 46 تبدیلیاں ہیں، اگرچہ اس کی دریافت کے بعد سے اس سے کوئی سنگین خطرہ نہیں ہے۔

اس کے علاہ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اس نئے ویرینٹ کے کم کیسز سامنے آنے کی وجہ سے فی الحال کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ دنیاکے کئی ممالک میں اومی کرون تیزی سے پھیل رہے اور ماہرین کا کہناہے کہ اس سے بچنے کیلئے ضروری سے کہ کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

دوسری جانب اسرائیل میں ایک 31 سالہ حاملہ خاتون کووڈ19 اور موسمی انفلوئنزا وائرس بیک وقت لاحق ہو گیا ہے کہا جارہا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا رجسٹرڈ فلورونا کا کیس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں