پاکستان میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

اسلام آباد : این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے پاکستان میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش عوام سے رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنے ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ سیٹر کے سربراہ اسد عمر اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ، پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا اومیکرون دنیا میں تیزی سے پھیل رہاہے، اومیکرون سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسینیشن بہت اہم ہے۔

این سی او سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اومی کرون جنوبی افریقہ سے پھیلنا شروع ہوا، اب پاکستان میں بھی اومیکرون کے کیسز بڑھ رہےہیں، اس ویرینٹ کی رفتار بہت تیز ہے، عوام رش والی جگہوں پر جانے سے گریزکریں، ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے بعدامریکا،برطانیہ میں بھی اومی کرون تیزی سے پھیلا، جنوبی افریقہ میں اسپتال جانیوالےمریضوں کا700فیصد لوگوں کا اضافہ ہوا جبکہ امریکا اور برطانیہ میں تقریب 300فیصد لوگ اسپتال گئے۔

انھوں نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کی نسبت امریکا،برطانیہ میں ویکسینیٹڈافرادزیادہ ہیں، جن لوگوں نے ویکسینیشن کرائی ہے ان کو اس بیماری کا خطرہ کم ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ ویکسینیشن فوری کرائیں، 12سال سے اوپر تک ویکسینیشن کی اجازت دی ہے اومی کرون کیسزسامنے آنے پرشرح 8.1 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ بڑےشہروں میں رہنےوالوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتاہے، صرف 60فیصد کیسز کراچی اور لاہور ان دو شہروں سے آرہےہیں ، ایک ڈوز لگائی ہے اور دوسری ڈوز کا وقت آگیا ہے تو فوراً لگوائیں۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں کیسزکی شرح میں2ہفتے کے دوران 940فیصدکااضافہ ہوا، پنجاب میں 10سے 12 دن کے 185فیصد کیسز میں اضافہ ہوا، دنیا کے شواہد بتاتے ہیں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوسکتاہے تاہم ویکسینیشن سے کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں