حرمین قتل کیس : ملزمان کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

کراچی : شاہ لطیف ٹاؤن میں ننھی حرمین کے قتل میں ملوث گرفتار زخمی ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں سے متعلق پولیس کو سب بتا دیا۔

ننھی حرمین کیس میں ملوث ملزمان دراصل کون ہیں اور کہاں سے آئے تھے، گرفتار زخمی ملزم پیارعلی کے پولیس کو دیئے گئے بیان کی ویڈیو موصول ہوگئی۔

منظم ڈکیت گروہ کا تعلق اندرون سندھ سے نکلا، ملزمان صرف ڈکیتی کی وارداتیں کرنے کراچی آتے تھے۔

ملزم پیارعلی نے اپنے بیان میں بتایا کہ میرا تعلق سانگھڑ اور دیگر5 ملزمان کا تعلق شہداد پور سے ہے، میرے ساتھیوں میں پیرو، گلو، نعیم، اکبر اور حق نواز دو دو شامل ہیں۔

پولیس کو دیئے گئے اپنے اعترافی بیان میں ملزم پیار علی نے بتایا کہ ہمارا گینگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کراچی میں صرف وارداتیں کرنے آتا تھا۔

ہم نے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک کوارٹر کرائے پر لے رکھا ہے، ہم شہر میں صرف میڈیکل اسٹورز کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ یہاں بھی میڈیکل اسٹور لوٹنے کے لیے آئے تھے۔

ملزم کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں گلشن اقبال، صفورا، ملیر، نیوکراچی، گولیمار، ناگن چورنگی میں بھی کئی وارداتیں کی ہیں۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حرمین واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی تصاویر حاصل کرلی گئی ہیں، مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے سندھ کے مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کراچی پولیس چیف نے ننھی بچی حرمین کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دو اعلیٰ سطح ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔

پہلی ٹیم ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر کی نگرانی میں بنائی گئی جس میں ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر، ایس ایس پی انویسٹی گیشن عارب مہر اور ایس پی گڈاپ شامل ہیں۔

دوسری ٹیم ڈی آئی جی سی آئی اے کریم خان کی سربراہی میں بنائی گئی جس میں ایس ایس پی ایس آئی یو عارف عزیز اور ایس پی اے وی سی سی معروف عثمان شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں