امریکا: 778 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور، افسران کی تنخواہوں میں 2.7 فیصد اضافہ

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے سنہ 2022 کے لیے 778 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے بل پر دستخط کر دیے، افغانستان سے انخلا کے بعد دفاعی بجٹ بڑھانے پر ترقی پسند ڈیمو کریٹس نے صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے دفاعی اخراجات سے متعلق نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ پر دستخط کردیے ہیں، منظور شدہ ایکٹ کے تحت سنہ 2022 میں امریکی حکومت دفاعی امور پر 778 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔

بل میں امریکی افواج کے اہلکاروں اور افسران کی تنخواہوں میں 2.7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

جو بائیڈن نے آئندہ سال کے لیے 743 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا تھا تاہم ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی باہمی مشاورت سے 778 ارب ڈالر کا بجٹ منظور کیا گیا۔

یاد رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے آخری دور میں سالانہ دفاعی بجٹ 740 بلین ڈالر تھا، اب افغانستان سے انخلا کے بعد دفاعی بجٹ بڑھانے پر ترقی پسند ڈیمو کریٹس نے صدر بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب امریکی ماہرین نے روس اور امریکا کے درمیان تناؤ کو دفاعی بجٹ میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔

روس کی جانب سے ممکنہ حملے کی صورت میں یوکرین کی عسکری امداد کے لیے امریکی دفاعی بجٹ میں 30 کروڑ ڈالر جبکہ یورپی ممالک کے دفاع کے لیے 4 ارب ڈالر شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں